Categories: پاکستان

پاکستان کے 21 ویں چیف جسٹس نے حلف اٹھا لیا

پاکستان کی سپریم کورٹی کے 21 ویں چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم نواز شریف اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، وفاقی شریعت کورٹ کے ججوں کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بھی شرکت کی۔
پاکستان کے صدر صدر ممنون حسین نے اُن سے حلف لیا۔ تصدق حسین جیلانی سات ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے اور اُن کے بعد جسٹس ناصرالملک پاکستان کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔
بدھ کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اعزاز میں منعقد ہونے والے فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ اچھی حکمرانی قانون کے نفاذ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدالت سمیت ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر اہم معاملات پر دائر کی جانے والی درخواستوں اور اختیارات کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سپریم کورٹ کو ملنے والے اختیارات کی حدود پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ کو آئین کی اس شق کے تحت کسی بھی واقعے یا اہم معاملے پر ازخود نوٹس لینے کا اختیار حاصل ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی ذیلی شق 3 اور 187 کے تحت عدالت عظمیٰ کو دیے گئے اختیارات کے تحت قانون اور سماجی حرکیات میں موجود فرق کم کرنے کے لیے استدعا کی جا سکتی ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے عدالت کو ریاست کے تینوں ستونوں کی آئینی حیثیت کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ خاص طور پر آئین کی شق 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کے حصول کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
یاد رہے کہ انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس اور متعدد ماہرینِ قانون نے ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے آئین کی اس شق کے تحت مختلف معاملات میں ازخود نوٹس لینے پر تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان معاملات میں بعض اوقات شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
جسٹس تصدق حیسن جیلانی نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اُن کے دور میں قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری پر کافی زور دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ آنے والا عدالتی نظام اُن کی صلاحیتوں سے مزید سیکھے گا۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago