وسط افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بینگوئی میں مسلم عیسائی فسادات کے باعث صورتحال کشیدہ ہے، بینگوئی میں واقع ایک مسجد اور اس سے ملحقہ گلیوں سے 80 لاشیں برآمد کی گئی ہیں، ان افراد کو چاقو اور گولیوں کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ حکام کے مطابق مسجد سے 54 جبکہ قریبی گلیوں سے26 لاشیں ملی ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ ان فسادات میں سابق صدر فینکس بوزیز اور ان کے حامی ملوث ہیں، سابق صدر نے مسلم حکمراں جماعت سے مذہبی اختلاف کے باعث بغاوت کا اعلان کیا ہوا ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم نکولس نے فرانس سے مدد کی اپیل کی تھی اور اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد فرانس کے صدر اولاند نے اپنے 1200فوجی تعینات کرنے کے احکام جاری کیے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لارنٹ فابیئس کا کہنا ہے کہ فرانس کی سابقہ نو آبادی میں قیام امن کیلیے فرانس کے فوجی خدمات انجام دینگے۔ فرانسیسی وزیر دفاع ژاں ایو لیدریاں نے کہاکہ فوجی مشن کا مقصد انسانی جانوں کو بچانا ہے اور سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنا ہے۔ شورش زدہ ملک کے وزیراعظم نکولا تیانگئی نے کہاکہ اس امر کا قوی امکان ہے کہ فرانسیسی فوجی کم از کم ایک سال تک وہاں رہیں گے کیونکہ 6 ماہ بہت کم عرصہ ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان