ایکسپریس نیوز کے مطابق دونوں دھماکے انچولی کے علاقے میں واقع چائے کے ہوٹل کے باہر ہوئے جس کے نتیجے میں بچے سمیت 6 افراد جاں بحق اور 28 سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکے انتہائی زور دار تھے جن کی آواز دور دراز علاقوں تک سنائی دی اور ان سے قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی دکانیں اور گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، دھماکوں کے بعد پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے تاہم زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دھماکوں کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی جبکہ علاقے کی بجلی معطل ہونے کے باعث بھی امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ جاوید اوڈھو کے مطابق دونوں دھماکوں میں دھماکا خیز مواد موٹر سائیکلوں میں نصب کئے گئے تھے جبکہ دھماکوں میں 3 سے 4 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ ایم کیو ایم نے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج جبکہ شیعہ علما کونسل نے ملک بھر میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ دھماکے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور سانحہ راولپنڈی کا رد عمل ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے ساتھ ہی میڈیا کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر اسی طرح غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا مظاہرہ جاتا رہا تو اسے بھی اس طرح کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام