صدر مائیکل سلیمان نے حزب اللہ کی ملک سے باہر مسلسل جاری سرگرمیوں پر اور غیر ملکی کنٹرول میں رہ کر شام کی خانہ جنگی کا حصہ بننے پر بھی تنقید کی۔
لبنانی صدر کا کہنا تھا ” ایک ریاست اپنے استحکام کو برقرار نہیں رکھ سکتی اگر مختلف جماعتیں اور گروہ اس منظق سے دور رہیں جو ریاست کے لیے ضروری ہے، یا ایسے گروپ قومی اتفاق رائے کے بغیر اپنے طور پر سرحد پار جا کر مسلح تصادم کا حصہ بن جائیں ، تو یہ گروپ قومی اتحاد اور سماجی امن کیلیے خطرہ بن جاتے ہیں۔”
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ شیعوں کے تحفظ کیلیے بشارالاسد کی مدد کر رہی ہے، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسی ماہ کہا ہے کہ ” ہمارے لوگ اسرائیلی سازش کا مقابلہ کرنے کیلیے شام میں موجود رہیں گے۔” جبکہ صدر نے شام کی خانہ جنگی سے فوری طور پر الگ ہونے کی اپیل کی ہے۔
صدر مائیکل سلیمان نے حزب اللہ کا نام لیے بغیر کہا” لبنانی فوج کو مسلح گروپوں کی طرف سے ملک اندر اسلحے کے استعمال پر کنٹرول پانا چاہیے۔”
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان