غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں خودکش دھماکا ٹھیک اس مقام پر ہوا ہے جہاں اگلے ہفتے قبائلی رہنماؤں کا امریکی حکام کے ساتھ 2014 غیر ملکی فوج کے انخلا سے متعلق بات چیت کےلئے لویہ جرگہ منعقد کئے جانے کا امکان تھا، افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری کار بس سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ترجمان کا کہناہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،اس سے قبل افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع چپرہار میں بھی کار بم دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید