غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں خودکش دھماکا ٹھیک اس مقام پر ہوا ہے جہاں اگلے ہفتے قبائلی رہنماؤں کا امریکی حکام کے ساتھ 2014 غیر ملکی فوج کے انخلا سے متعلق بات چیت کےلئے لویہ جرگہ منعقد کئے جانے کا امکان تھا، افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری کار بس سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ترجمان کا کہناہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،اس سے قبل افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع چپرہار میں بھی کار بم دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان