حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: میں نے خواب میں دو مرتبہ تمہیں دیکھا‘ میں نے دیکھا کہ تم ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی ہو اور مجھے کہا گیا کہ یہ آپﷺ کی بیوی ہے‘ سو پردہ ہٹا کر دیکھیے‘ جب میں نے دیکھا تو تم تھی۔ تو میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ ایسا کرکے ہی رہے گا۔ (یہ حدیث متفق علیہ ہے)
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین رضی اللہ عنہٗ پیدا ہوئے تو ان کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں) مجھے حضور نبی اکرم ﷺ نے بلا کر فرمایا: مجھے ان کے یہ نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں)میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ﷺبہتر جانتے ہیں۔ پس آپ ﷺ نے ان کے نام حسن و حسین رکھے۔‘‘ (امام احمد بن حنبل‘ ابویعلی‘ حاکم)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسن اور حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جس نے مجھ سے اور ان سے محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی۔ وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہوگا۔‘‘ (ترمذی‘ احمد)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے حسن اور حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کی‘ اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔ (ماجہ‘ نسائی‘ احمد)
بشکریہ عبقری میگزین
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام