ان کا تعلق شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین کے قصبہ فقوعہ سے تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیران کی بہبود کے لیے سرگرم ادارے” کلب برائے اسیران” کی جانب سے جاری ایک بیان مرحومہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرحومہ مریم جلغوم کی خدمات کو فلسطینی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
خیال رہے کہ مرحومہ مریم جلغوم کوصہیونی فوج نے سنہ 1970ء میں ان کے خداندان کے تمام افراد کے ہمراہ حراست میں لیا۔ ان کے خاندان پرعوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے عسکری ونگ سے تعلق جوڑا گیا گیا تھا۔
مریم جلغوم جنین اور مغربی کنارے کے تمام شمالی علاقوں کی پہلی خاتون اسیرہ تھیں جنہیں نابلس میں قائم اسرائیل کی سینٹرل جیل میں کئی سال تک قید رکھا گیا تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید