ایف سی کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ حملہ سنیچر کی صبح ساڑھے سات بجے پروم چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مسلح حملہ آوروں نے ایف سی کی ایک گشتی پارٹی کو نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق اس حملے میں تین ہلاکتوں کے علاوہ دو اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایف سی کے ترجمان کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں پانچ حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔
علیحدگی پسند گروپ بلوچ ری پبلکن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ ایف سی کی جوابی کارروائی میں ان کے پانچ ساتھی مارے گئے۔
خیال رہے کہ پنجگور بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں شامل ہےاور یہاں بلوچ علیحدگی پسندوں کا خاصا اثر ہے۔
یہاں ماضی میں بھی سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں خاصا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
بلوچستان کا یہ سرحدی ضلع ایک جانب ایران سے جڑا ہوا ہے تو صوبے میں اس کی سرحدیں حال ہی میں زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران سے بھی ملتی ہیں۔
بی بی سی اردو
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید