Categories: مشرق وسطی

ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی جامعہ الازھر کی رکنیت منسوخی کے مطالبات

  مصر میں تین جولائی کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد جہاں ملکی سیاست میں بہت کچھ بدل گیا ہے وہیں جید علماء کے مابین بھی کشیدگی کھل کرسامنے آنے لگی ہے۔

مصر اور قطر کی دوہری شہریت رکھنے والے ممتازعالم دین علامہ یوسف القرضاوی کی جانب سے مصر کی عظیم درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹراحمد الطیب کی پالیسیوں کی مخالفت سے علماء دو حصوں میں منقسم ہو گئے ہیں۔
اخبار “الشرق الاوسط” کی رپورٹ کے مطابق علامہ یوسف القرضاوی کی ڈاکٹر احمد الطیب پر تند و تیز تنقید کے بعد کئی علماء نے علامہ قرضاوی کی جامعہ الازھر اور علماء کونسل کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شیخ الازھر نے علماء کی جانب سے موصول ہونے والی اس نوعیت کی درخواستوں پر فوری طور پر کوئی فیصلہ تو نہیں کیا ہے تاہم انہیں محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ سند رہے اور بہ وقت ضرورت کام آئے۔
خیال رہے کہ علامہ یوسف القرضاوی مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ تین جولائی کے اقدام پر جب جامعہ الازھر کے سربراہ احمد الطیب نے فوج کی نگرانی میں نئی حکومت کا خیر مقدم کیا تو علامہ قرضاوی نے اس پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ شیخ قرضاوی کے بہ قول “احمد الطیب سازشی، ہر حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ماہر اور اپنے عہدے اور منصب کو نام نہاد مصالحت اور ذاتی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آئین معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت کرتا ہے.”
علامہ یوسف القرضاوی کی یہ تلخ نوائی مصر کی موجودہ برسراقتدار قیادت اور ان کی حامی عدلیہ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو رہی ہے۔ اس کا اظہار ڈپٹی اٹارنی جنرل کے اس حکم سے بھی ہو رہا ہے جس میں انہوں نے حال ہی میں علامہ یوسف القرضاوی کو”اشتہاری” شخص قرار دے کر ان پر الزام عائد کیا تھا کہ “شیخ قرضاوی مصری فوجیوں کے قتل پر اکسانے اور خارجی قوتوں کے لیے جاسوسی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کی مصر میں آمد و رفت پر گہری نظر رکھی جائے اور جیسے وہ مصر کی سرزمین پر قدم رکھیں انہیں حراست میں لے لیا جائے.”
مصر میں جامعہ الازھر کے بیشترعلماء و مشائخ حکومت نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علامہ یوسف القرضاوی کوہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ جامعہ کے ایک سرکردہ عالم دین الشیخ اشرف سعد کا کہنا ہے کہ “جو باتیں ڈاکٹر قرضاوی نے شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب کے بارے میں کہی ہیں۔ وہ خود ان کی اپنی شخصیت پر صادق آتی ہیں۔
احمد الطیب پر اپنی پگڑی کو ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام دینے والے یہ بھی دیکھیں کہ جن کی وہ حمایت کر رہے ہیں، انہیں مصری عوام نے مسترد کر دیا ہے”۔ ان کا اشارہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جانب تھا۔ العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سعد نے کہا کہ “یوسف القرضاوی نے اپنا تمام علم، خطبات اور فتاویٰ اخوان المسلمون بالخصوص معزول صدر محمد مرسی کی خدمت کے لیے وقف کر دیے ہیں۔

العربیہ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

8 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago