سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی وزیرستان کی شوال تحصیل کے پش زیارت کے علاقے میں امریکی ڈرون حملہ ہوا۔
امریکی ڈرون نے دو مکانوں پر چار میزائل داغے جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔
تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا ہلاک ہونے والے جنگجو تھے یا عام شہری۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے اعلان کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔
پاکستان میں حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے اور اسے ملکی سالمیت کی اصولی خلاف ورزی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فائدے سے زیادہ نقصان پہنچانے والا حربہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کے استعمال کو منصفانہ جنگ قرار دیتا ہے۔
امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کے دورۂ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
موجودہ حکومت میں یہ کسی بڑے امریکی عہدیدار کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا اور اس میں جان کیری نے کہا تھا کہ ڈرون حملے نہیں رکیں گے۔
ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ہونے والا پہلا ڈرون حملہ سات جون کو شمالی وزیرستان میں ہوا تھا اور اس حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کے بعد پاکستان نے امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا اور ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے میزائل حملوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے اور اس میں جہاں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود، نائب امیر ولی الرحمن، اہم کمانڈر مولوی نذیر اور قاری حسین کے علاوہ القاعدہ کے کئی اہم رہنما مارے گئے ہیں وہاں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان