اطلاعات کے مطابق ہرات میں خود کش حملہ آوروں نے بارود سے بھرے ایک ٹرک سے امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس سے ایک گاڑی تباہ ہو گئی۔ امریکی فوجیوں اور طالبان کےاس خود کش حملہ آوروں کے درمیان جمعہ کے روز فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا۔ امریکی نائب ترجمان کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق امریکی عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی یہ کوشش جمعہ کے روز صبح سویرے کی گئی۔ کابل میں امریکی نائب ترجمان نے کہا ”امریکی فوجیوں اور سکیورٹی سے متعلق امریکی کنٹریکٹرز کے اہلکار نے ان حملہ آوروں کو نشانہ بنایا جو کسی طرح امریکی کمپاونڈ میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی سے حملہ ناکام ہو گیا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کے مطابق حملہ ہرات مقامی وقت کے مطابق پانچ بجکر تیس منٹ پر ہوا۔ جب ایک خود کش جیکٹ پہنے بندوق بردار قونصل خانے کے سامنے والے دروازے سے ٹرک پر سوار داخل ہوا اور فائرنگ شروع کرتے ہوئے اس نے اپنے ٹرک کو ڈیٹو نیٹر سے اڑا دیا۔
افغان طالبان کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کی طرف سے رپورٹرز کو بھیجے گئے ایک ای میل پیغام میں کہا گیا ہے، ’’ہمارے اس حملے کا مقصد امریکیوں کو یہ بتانا ہے کہ وہ ملک میں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔‘‘
ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حملے کے دوران ایک گاڑی بھی تباہ ہو گئی ہے۔ جبکہ ہرات ہسپتال کے ذرائع نے چار افغانی پولیس اہلکاوروں کے زخمی ہو کر ہسپتال آنے کی تصدیق کی ہے۔ افغانستان کا ایرانی سرحد کے قریب واقع ہرات شہر عام طور پر جنگ زدہ افغانستان کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…