امریکی پادری، قرآن مجید نذر آتش کرنیکی ایک اور کوشش

 

 

 

امریکا سے موصول ہونے والی ایک سنسنی خیز خبر کے مطابق امریکی ریاست “فلوریڈا” سے تعلق رکھنے والا بدبخت امریکی پادری “ٹیری جونز” نے گزشتہ روز آخری الہامی کتاب قرآن مجید کے تقریباً 3000 نسخوں کو نذرِ آتش کر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش کی۔

فلوریڈا سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کے مطابق 61 سالہ ٹیری جونز کو امریکی پولیس نے اس کوشش میں کامیاب ہونے سے پہلے ہی بڑی مقدار میں غیر قانونی طور پر مٹی کے تیل کی نقل و حمل اور اسلحے کی نمائش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ واضح رہے کہ پولیس نے اسے نفرت پھیلانے یا مسلمانوں کے جذبات یا مذہب کے خلاف جارحانہ اقدامات اٹھانے کے جرم میں گرفتار نہیں کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بدبخت ٹیری جونز ایک ٹرک کے ذریعے قرآنی نسخوں سے بھرے کنٹینر کو کھینچ کر کسی جگہ منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ قریب سے دیکھنے پر پتہ چلا کہ بار بی کیو کی گرِل نما کنٹینر میں مٹی کے تیل میں بھگوئے ہوئے قرآن مجید کے تقریباً 3000 نسخے موجود تھے۔”
جونز کا مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کو جلا کر اسکی بے حرمتی کرنے کا یہ منصوبہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب امریکی صدر باراک اوباما نے بین الاقوامی برادری کی مدد سے شام پر حملے کی وعید سنائی ہوئی ہے جسکی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں بھی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ آنے کا خطرہ ہے۔
مقامی اخبار کی رپورٹ میں ٹیری جونز کی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بدبخت نے 11 ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے میں جان بحق ہونے والے افراد سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے فلوریڈا کے”ٹامپا بے” علاقے میں قرآن پاک کی “2998” نقول کو نذرآتش کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اسے اسکے ایک نامراد معاون پادری “مارون سیپ” کے ساتھ قرآن مجید جلانے سے محض چند لمحے قبل گرفتار کر لیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ پہلی دفعہ کا واقعہ نہیں ہے کہ اس نامراد امریکی پادری نے پوری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ نفرت کا اظہار کیا ہے۔ 2010ء میں فلوریڈا کے گینسویل کے”ڈوو ورلڈ آئوٹریچ سنٹر” کا پادری ہونے کی حیثیت سے ٹیری جونز نے قرآن کی نقول کو شہید کرنے کی دھمکیاں دی تھیں جنکے نتیجے میں امریکا سمیت تمام دنیا میں غصے کی ایک لہر دھوڑ پڑی جسکے پیشِ نظر اسے اپنا منصوبہ ختم کرنا پڑا۔
یہ بات یاد رہے کہ 2011ء میں اسی پادری کے پیروکار قرآن کے نسخوں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے جب انہوں نے قرآن مجید کو نذرآتش کیا ۔ یاد رہے کہ مسلمانوں کے دلوں اورجزبات میں آگ لگانے والی مشہورِ زمانہ فلم”مسلمانوں کی معصومیت” کی مشہوری کر کے بھی مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
یاد رہے کہ ان تینوں واقعات نے امریکا کے عسکری حکام کی متعدد درخواستوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا اور نتیجتاً لیبیا میں متعین امریکی سفیر “کرس سٹیونز” سمیت سفارتی عملے کے 4 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور افغانستان میں بھی امریکی فوجی بیس پر خودکش حملہ کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago