دارالحکومت قاہرہ کے علاقے مادی اور اسکندریہ میں جمہوریت کے حامیوں نے مظاہرے کئے جن میں اخوان المسلمین اور دیگر گروپوں میں سے مزید 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیاہے۔
مصر کے اٹارنی جنرل آفس نے مُرسی دور میں صدارتی دفتر کے پریذیڈنٹ آف کونسل محمد رفات التہتاوی کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم اخوان المسلمین کے لیڈروں اور صدارتی دفتر کے حکام میں سے 14 افراد کو مظاہرین کو حملوں کی تحریک دینے کے جُرم میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیاہے۔
دوسری طرف مصری فوج 4 دن سے سینا جزیرہ نما میں وسیع پیمانے پر آپریشن کر رہی ہے اور اس دوران اسے دو بم حملوں کا سامنا ہوا ہے۔
غزہ کی سرحد پر واقع شہر رفاح میں فوجی خفیہ خبر رسانی کے مرکز پر بم حملے کے بعد دوسرا دھماکہ مرکز کے قریب واقع چیک پوسٹ پر ہوا جن کے نتجے میں ٤ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
TRTاردو
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید