خیال رہے کہ عراق میں کئی ماہ سے فرقہ وارانہ تشدد اپنے عروج پر ہے جبکہ یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ جنگ کا شکار اس ملک میں 2003ء کے امریکی حملے سے پہلے کی صورت حال پیدا نہ ہوجائے۔
بدھ کو ہونے والے دھماکے کسرہ نام کے علاقے میں پیش آئے جہاں ایک خود کش بمبار مسجد کے دروازے پر پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ کچھ دیر بعد اس کی گاڑی میں بھی دھماکہ ہوگیا۔
پولیس اور ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں 52 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنکی طبی امداد جاری ہے جبکہ انہوں نے واقعے میں ہلاکتوں کی بھی تصدیق کردی ہے۔
تاحال کسی گروپ نے کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم القاعدہ سے منسلگ گروپ اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ دی لیونٹ اس طرح کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی عراق میں پر تشدد واقعات میں 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران عراق میں چار ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جن میں 804 اگست کے مہینے میں قتل ہوئے۔
ڈان نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام