Categories: افغانستان

صدر کرزئی کا خفیہ امریکی امداد لینے کا اعتراف

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے دفتر کو امریکہ کی جانب سے خفیہ طور پر رقم فراہم کی جاتی تھی۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ رقم قلیل تھی اور اس کا مناسب استعمال کیا گیا ہے۔
حامد کرزئی نے یہ بات نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے جواب میں کہی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے صدر کرزئی کے دفتر میں کیش سے بھرے سوٹ کیس مسلسل طور پر پہنچاتی رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کروڑوں ڈالر خفیہ انداز سے بھیجے گئے اور اندازوں سے کہیں زیادہ کیش وسیع پیمانے پر پہنچائی جاتی رہی۔ صدر کرزئی نے کہا کہ یہ پیسے مختلف قسم کے منصوبوں کے لیے تھے جیسے کہ بیماروں کی امداد وغیرہ۔
انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ’ان کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا گیا جیسے کارکردگی کے لیے، زخمیوں کی امداد کے لیے، کرایے کے اخراجات اور دیگر مقاصد کے لیے۔ یہ مؤثر رقم تھی اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ان رقوم کو افغانستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ کونسل گذشتہ دس برسوں سے صدر کے دفتر کا حصہ ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’امریکی ڈالروں کے بنڈل سوٹ کیسوں، پشتی بيگوں اور بعض اوقات شاپنگ کے تھیلوں میں بھرکر صدر کے دفتر ہر مہینے پہنچائے جاتے تھے۔‘
انھوں نے خلیل رومان کے حوالے سے یہ بات کہی جو سنہ 2002 سے 2005 تک صدر حامد کرزئی کے چیف سٹاف رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس رقم کو ’جناتی رقم‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
خلیل رومان کے مطابق ’یہ خفیہ طور پر آتی تھی اور خفیہ طور پر وہاں چھوڑ دی جاتی تھی۔‘
اس رپورٹ میں ایک امریکی اہل کار کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر کہا گیا ہے کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ اس کے ذریعے سی آئی اے وہ اثر و رسوخ حاصل کر سکا جو وہ چاہتی تھی۔
یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ سرکاری طور پر امریکی امداد کی جو شرطیں ہیں وہ بھی اس پر عائد نہیں ہوتی تھی۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زیادہ تر رقم سے بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے زیادہ تر رقوم غلط تعلقات رکھنے والے جنگجو سربراہوں اور سیاست دانوں کو ملی ہے۔
واضح رہے کہ سنہ 2010 میں حامد کرزئی نے ایران سے کیش کے حصول کی بات تسلیم کی تھی لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ ’صاف شفاف‘ عمل کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ پیسہ کسی فرد کے لیے نہیں تھا بلکہ صدر کے دفتر کو چلانے کے لیے تھا۔
افغانستان کو امداد کے طور پر اربوں ڈالر ملتے ہیں اس کے باوجود اس کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago