ابتدائی طور پر تین افراد کے ہلاک اور18 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح دھماکہ پشاورکے مصروف ترین یونیورسٹی روڈ پربس اسٹا پ کے قریب ہواجس میں ایک پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
دھماکے کے وقت پولیس کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس بھی اسی سڑک سے گزر رہے تھے تاہم وہ محفوظ رہے البتہ ایک مسافر بس دھماکے کی زد میں آگئی تھی۔
دھماکے کےفوراً بعد سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد اورریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، ہلاک وزخمیوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیاہے جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں تاہم فوری طورپرواضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دھماکہ خودکش تھا یا بارودی مواد کہیں نصب کیا گیا تھا۔
تاحال کسی نے دھماکے کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دی نیوز ٹرائب
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان