دور افتادہ صوبہ غزنی میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں ایک پولیس قافلے کونشانہ بنایا گیا جو ضلع زانا خان میں طالبان کے حملے کے مقام سے گزر رہا تھا۔
غزنی کے ڈپٹی گورنر محمد علی احمدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈپٹی صوبائی سربراہ محمد حسن عادل اور ان کے دو محافظ ہلاک ہو گئے۔
غزنی کی پولیس ترجمان محمد نبی جان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد اتنی ہی بتائی ہے۔
افغانستان میں طالبان حملوں میں پولیس افسران کی ہلاکت معمول کا حصہ ہیں تاہم مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے نصب بم دھماکہ ان کے موسم بہار آپریشن کا حصہ ہے جس کا اتوار کے روز آغاز ہوا ہے۔
طالبان ترجمان نے ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ موسم بہار آپریشن کے حصے کے طور پر آج صبح مجاہدین نے ایک بڑا حملہ کیا جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر بھیج دی گئی جنہیں راستے میں جھڑپ کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں محمد حسن پانچ دیگر پولیس افسران کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔
مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ حملے میں چھ دیگر پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔
ہفتہ کے روز طالبان کا کہنا تھا کہ ان کے سالانہ آپریشن میں اتحادی افواج کے فضائی اڈوں اور سفارتی عمارتوں کو خود کش بم دھماکوں ، افغان فوجیوں کی جانب سے اندرونی حملوں اور خصوصی فوجی حکمت عملی کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔
ڈان نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان