سابق صدرپرویزمشرف کو ججزکو نظربند کرنے کے کیس کی سماعت انسداددہشتگردی عدالت کے جج کوثرعباس نے کی،پرویزمشرف کو رینجرزاورپولیس کی سخت سیکورٹی میں عدالت میں پیش کیاگیا،
مقدمے کے مدعی وکیل اشرف گجر اور دیگروکلاء نے عدالت سے استدعاکی کہ ججوں کو حبس بے جاء میں رکھنے ، آئین کو توڑنے اور غیر قانونی کام کرنے پر پرویزمشرف پر انسداددہشتگردی ایکٹ کی دفعہ چھ لاگوہوتی ہے ان کے تمام اقدامات پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے۔
عدالت نے دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،اور پرویزمشرف کو عدالت سے لے جانے کی اجازت دیدی،کچھ دیر کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے پرویزمشرف کو 4 مئی تک جوڈیشل ریمانڈپر بھیج دیا،
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعانہیں کی گئی اس لئے مشرف کو چودہ روزتک جوڈیشل ریمانڈپر بھیجا جارہاہے،عدالت نے کہاہے کہ پرویزمشرف کو چارمئی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیاجائے۔
دوسری جانب پرویز مشرف مخالف وکلاء نے احاطہ عدالت میں شدید نعرے بازی کی ، پولیس اور وکلاء کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان