مقامی حکام کے مطابق طالبان نے رات کے وقت چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے، صوبائی گورنر موسیٰ خان اکبرزادہ نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو علاقے میں جاکر عوامل کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
2014 میں امریکا اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے امور افغان آرمی اور پولیس کے حوالے کر دیئے جائیں گے جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان نے افغان پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
بدھ کے روز صوبہ جوز جان میں طالبان نے 4 افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کے بعد ان کے گلے کاٹ کر لاشیں سڑک پر پھینک دیں تھیں، منگل اور بدھ کے روز ہی طالبان کی جانب سے کئے گئے حملوں میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں اور ریڈ کریسنٹ کے 2 کارکنوں سمیت 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان