ٹی وی کے مطابق دھماکے سے تباہ ہونے والی گاڑی سبع بحارات اسکوائر اور الشھبندر کے درمیانی علاقے میں پارک تھی۔
دھماکا شام کے مرکزی بینک کے سامنے سبع بحارات اسکوائر کی ایک نسبتا خالی سڑک پر ہوا۔ الشھبندر اسکوائر کو جانے والی اسی شاہراہ پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کا دفتر بھی واقع ہے، جسے دھماکے سے شدید نقصان پہنچا۔
شام کے ‘الاخیاریہ’ سیٹلائیٹ ٹی وی چینل کے مطابق دھماکا علاقے میں واقع البخاری سکول کے قریب ہوا، جس کی وجہ سے آٹھ طلبہ بھی ہلاک ہو زخمی ہونے والوں میں بتائے جاتے ہیں۔
‘اے ایف پی’ سے وابستہ خاتون رپورٹر کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، تاہم اس کے باوجود آگ بجھانے والی گاڑیاں اور ایمبولینسز علاقے کی جانب جاتی دیکھی گئیں۔
سرکاری ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دھماکے کی جگہ پرفائرنگ کی آوازیں دراصل قانون نافذ کرنے والے ادراروں کے افراد کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد امدادی کارروائی کے لئے جانے والے کارکنوں کے لئے راستہ کھلوانا ہے۔
دھماکے کی شدت سے مرکزی بینک اور اردگرد واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے مقام تک عام لوگوں کی رسائی بند کر دی ہے تاکہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ پڑے۔
ایجنسیاں
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان