یہ بات عینی شاہدین اور پولیس ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
خاکروب کا کام کرنے والے 26سالہ نوجوان ساون مسیح کو دو روز قبل یعنی جمعہ کے روز اس کے مسلم دوست شاہد عمران کی جانب سے توہین رسالت کی شکایت درج کروانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، اس گرفتاری کے بعد علاقے سے مسیحی افراد کسی ممکنہ اشتعال کے سبب چلے گئے تھے۔
جوزف کالونی کے سینئر پولیس عہدیدار ملتان خان کے مطابق ساون مسیح اور شاہد عمران کئی برسوں سے دوست ہیں۔
ملتان خان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں دوست ہر شام اکھٹے بیٹھ کر مے نوشی کرتے رہے ہیں، گزشتہ ہفتے بدھ کے روز ان دونوں کے درمیان کسی بات پر تکرار ہوگئی، جس کے نتیجے میں مشتعل ہو کر ساون مسیح نے توہین رسالت پر مبنی الفاظ بول دیے۔
مقامی رہائشی الطاف مسیح کا کہنا ہے کہ دونوں دوستوں کے درمیان شراب نوشی کے دوران مذہبی معاملات پر شروع ہونے والی معمولی بحث تلخ جملوں کے تبادلے میں تبدیل ہوگئی۔
دی نیوز ٹرائب کےنمائندے کے مطابق پاکستان میں توہین رسالت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور ملزم پر جرم ثابت ہونے اور عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے باوجود فیصلوں پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عوام خود قانون ہاتھ میں لینے لگے ہیں۔
ادھر پنجاب پولیس کی ترجمان نبیلہ غضنفر کا کہنا ہے کہ غفلت برتنے پر ملتان خان سمیت 4 سنیئر پولیس عہدیداران کو ان کی جگہوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز مشتعل ہجوم نے جوزف کالونی میں دھاوا بول کر 150 سے زائد گھروں کو جلا دیا تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دی نیوز ٹرائب
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان