سلطان ترین کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق اغوا کی یہ واردات پیر کی شب اس وقت ہوئی جب سلطان ترین کوئٹہ سے اپنے آبائی علاقے کی جانب سفر کر رہے تھے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع پشین کی حدود میں بوستان کے علاقے میں ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں ڈرائیور اور محافظ سمیت اغوا کر لیا۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے رکنِ اسمبلی کے ڈرائیور اور محافظ کو کچھ دیر بعد اتار دیا اور سلطان ترین کو ساتھ لے کر فرار ہوگئے۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا ہے کہ اغوا کاروں نے سلطان ترین کی رہائی کے بدلے پانچ سو ملین روپے تاوان طلب کیا ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سلطان ترین دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں پی بی 22 ہرنائی / سبی کی نشست سے رکن اسمبلی بنے تھے اور بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ تک وزیرِ جیل خانہ جات کے طور پر کام کر رہے تھے۔
بی بی سی اردو
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…