Categories: پاکستان

شمالی وزیرستان: سینیئر صحافی ہلاک

شمالی وزیرستان ایجنسی کے سینیئر صحافی ملک ممتاز کو بدھ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ حملہ آور بغیر نمبر پلیٹ کی کالے شیشوں والی گاڑی میں سوار تھے۔
پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ہے کہ ملک ممتاز میرانشاہ بازار میں کسی شخص کی وفات پر تعزیت کے بعد میرانشاہ گاؤں میں اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ چشمہ پل کے قریب ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ حملہ آور کالے شیشوں والی گاڑی میں سوار تھے اور راستے میں ملک ممتاز کی گاڑی کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ حملہ آور کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں کوئی ایک گروپ یا کوئی ایک تنظیم متحرک نہیں ہے بلکہ مختلف تنظیمیں اور گروہ سرگرم ہیں جو اس طرح کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
ملک ممتاز مختلف ذرائع ابلاغ کے ساتھ وابستہ رہے ۔ ان دنوں وہ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز اور پشتو زبان کے چینل خیبر نیوز کے ساتھ وابستہ تھے۔ انھوں نے پسماندگان میں بیوہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ ملک ممتاز کی عمر لگ بھگ پچاس برس تھی اور وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے۔
ملک ممتاز شمالی وزیرستان ایجنسی کے ایک اہم خاندان کے فرد تھے اور علاقے میں انھیں بڑی عزت کی نگار سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کا تعلق داوڑ قبیلے سے تھا اور علاقے میں اپنے قبیلے کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیا کرتے تھے۔
ملک ممتاز چند روز پہلے میرانشاہ پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے تھےاور کل یعنی جمعرات کے روز نو منتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری منعقد ہونا تھی۔
بظاہر مقامی صحافیوں کے مطابق ملک ممتاز کو براہ راست کسی خبر پر کوئی دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی لیکن شمالی وزیرستان جیسے علاقے میں صحافت کرنا ہی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ صحافیوں کو ہر خبر سوچ سمجھ کر بھیجنا پڑتی ہے اور انھیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس خبر پر ان سے کون سا گروہ یا ملٹری کے حکام ناراض ہو سکتے ہیں۔
قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے تیرہ صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی میں اس سے پہلے صحافی حیات اللہ کو سن دو ہزار چھ میں اغوا کرنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ گزشتہ سال اگست میں ایک صحافی رحمت اللہ کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو ٹیلفون کرکے بتایا کہ وہ صحافی ممتاز کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ممتاز نے ہمشہ قبائلی کی آواز اُٹھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا وہ ممتاز کے خاندان کے ساتھ اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور طالبان کو ان سے کسی قسم کی شکایت نہیں تھی۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago