شامی جنگجووں نے یونٹ کا کئی روز تک محاصرہ کئے رکھا جس کے بعد جیش الحر کی فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔
انقلابی جنگجووں نے الزام عاید کیا کہ سرحد پر تعینات ہونے کی وجہ سے یہ یونٹ عراق سے نوری المالکی کی فوج کو شام میں داخلے کی سہولت فراہم کرتا تھا تاکہ وہ بشار الاسد کی حامی فوج کی صفوں میں شامل ہو کر انقلابی جنگجووں کے خلاف آپریشن میں حصہ لے سکیں۔
ادھر لائیو شامی نیٹ ورک نے شام کے شمالی شہر الرقہ کے تل ابیض سرحدی قصبے پر بیلسٹک میزائل حملے کی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ ارسال کردہ نشریئے میں بتایا گیا ہے کہ حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ارد گرد جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
دمشق سے شامی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ جیش الحر نے المھاجرین اور المزہ کے درمیانی علاقے قصر تشرین پر متعدد راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ جیش الحر نے دمشق کے نواح میں فلسطینی مہاجر کیمپ میں واقع بلدیہ آفس میں واقع بشار الاسد کی حامی فوج کے کیمپ اور پولیس تھانے پر حملہ کیا ہے۔ کالونی کے اردگرد شاہراہ الثلاثین پر بھی جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
شامی نیٹ ورک کے مطابق جیش الحر نے برزہ کالونی پر سرکاری فوج کا حملہ پسپا کرتے ہوئے بشار الاسد کی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
العربیہ نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید