العربیہ ٹی وی کے مطابق الانبار کی عوامی اور کوآرڈی نیشن کمیٹیوں نے سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر عراقی دارالحکومت بغداد کی جامع الامام الاعظم مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مارچ ملتوی کر دیا ہے۔
مارچ ملتوی کرنے کا اعلان عراق کے سرکردہ دینی رہنماؤں کے ان خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ جھڑپوں کا امکان ہے۔
عراقی بری فوج کے سربراہ جنرل علی غیدان نے احتجاجی مظاہرے کی کال دینے والی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کے ارکان، صوبے کے پولیس سربراہ، الانبار کے آپریشنل کمانڈر اور سنی ٹرسٹ کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد مظاہرین کے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام فریقوں کے لئے مسائل کے حل کی درمیانی راہ تلاش کرنا تھا۔
جنرل غیدان نے بتایا کہ میرے فوجی یونٹس کے پاس مختلف گورنریوں سے بغداد جانے اور واپس آنے والے مظاہرین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے نفری اور وسائل موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں ہم نے سترہ اشتہاری ملزموں کو گرفتار کیا ہے جو مظاہروں کو تاراج کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔
العربیہ نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان