ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ کانفرنس اور دیگر “ہارس ٹریڈنگ” کا مقصد دونوں “اصل فریقین” کے درمیان موثر اور نتیجہ خیز مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
یہاں اصل فریقین سے طالبان کا ممکنہ طور پر مقصد امریکا اور ان کے درمیان مذاکرات ہیں کیونکہ اس سے قبل بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات صرف طالبان اورامریکا کے درمیان ہو سکتے ہیں۔
طالبان نے مارچ 2012 میں سیاسی قیدیوں کے تبادلے کے تناظر میں قطر میں امریکی نمائندوں سے روابط منقطع کر دیے تھے اور خلیجی ریاست میں ایک رابطہ آفس کھول لیا تھا۔
مجاہد نے مزید لکھا ہے کہ فوجی شکست کا شکار مغربی فوجیں اپنی ناکامی چھپانے کیلیے پراپیگنڈے کے طور پر اس طرح کی کانفرنس کا انعقاد کرا رہی ہیں تاکہ یہ دکھا سکیں کہ مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔
مجاہد نے ٹیلیوفون پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ پر شائع شدہ اس طویل آرٹیکل کے بعد طالبان جلد ہی کانفرنس سے متعلق آفیشل بیان جاری کریں گے۔
ڈان نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار