پانچ روز سے جاری لڑائی میں ہلاک افراد کی تعداد 86 ہوگئی ہے۔خیبرایجنسی میں پانچ روز سے شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ جاری ہے۔
کالعدم انصارالاسلام اور تحریک طالبان ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان خیبرایجنسی کے علاقوں وادی تیراہ ، میدان، باڑہ اور جمرود پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
جسے انصارالاسلام کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق کالعدم انصار الاسلام مقامی تنظیم ہے جو تحریک طالبان کو اپنے علاقے میں ٹھکانے دینے کو تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ جھڑپوں میں امن لشکر کے رضاکار بھی کالعدم انصارالاسلام کا ساتھ دے رہے ہیں۔
جبکہ کالعدم لشکر اسلام اپنا ساتھ تحریک طالبان کے ساتھ نبھا رہی ہے۔
جو وادی تیرہ میں اپنے لیے محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں ہے ۔دونوں گروپوں کے درمیان یہی وجہ تصادم بنی ہوئی ہے۔
جھڑپوں کے باعث ان علاقوں سے سیکڑوں خاندان نقل مکانی کرگئے ہیں۔
آج خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے علاقے تخت کی میں امن لشکر اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
جس میں امن لشکر کے 4 رضاکار جاں بحق اور ایک شدت پسند مارا گیا۔
جنگ نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان