وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے انتظامیہ کو صوبے میں خسرے کے خاتمے کے لیے ویکسینیشن کو یقینی بنانےاور ایمرجنسی پلان مرتب کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
تاہم اس کے باوجود متاثرہ بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک صوبے میں چودہ سو بچے اس وباء کا شکار ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے ملک میں خسرہ سے پانچ سو بچوں کی اموت کی تصدیق کی ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وباء پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ خسرہ نے پنجاب اور فاٹا کے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جو ایک خطرناک صورتحال ہے۔
کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں غیر معیاری ویکسین پروگرام کے باعث خسرہ بے قابو ہے، ویکسن پروگرام میں کوتاہی کا عمل قابل معافی جرم ہے ۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں بالائی سندھ میں خسرہ سے دو سو سے زیادہ بچے ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے بعد یہ وباء زیریں سندھ تک بھی پھیل گئی اور ٹھٹہ ، لاڑکانہ، سکھر، کندھ کوٹ، کشمور اور جیکب آباد کے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
ڈان نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید