اس امر کا انکشاف العربیہ کی خصوصی وقائع نگار ریما مکتبی کی حال ہی میں شام سے بھیجی جانے والی فوٹیج میں ہوا ہے۔ بشار الاسد فوج کے اہلکار شام سے اردن ہجرت کرنے والے ہم وطنوں کو اردن کی سرحد پر گولیوں سے بھون رہے ہیں۔
ریما مکتبی کے مطابق شامی مہاجرین ملک سے فرار کے غیر قانونی طریقے اختیار کر کے جائے امان کی تلاش میں سرگرداں ہیں لیکن بشار الاسد کی انسانیت سے عاری فوج وہاں بھی ان کا پیچھا کرنے پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی بحران کے آغاز سے ابتک تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد مختلف سرحدی راستوں سے ہوتے ہوئے اردن پہنچے ہیں۔
سخت سردی اور برف پوش گھاٹیوں میں دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہوئے اردن پہنچنے والے خوش قسمت مہاجرین کے حوالے سے ریما مکتبی نے بتایا کہ بشار رجیم مہاجرین کے چھوٹے چھوٹے قافلوں پر اس وقت فائر کھول دیتے ہیں کہ جب وہ اردنی سرحد کے بالکل قریب ہوتے ہیں۔
بہت سے مہاجر اپنی نئی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی شامی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
اردنی فوج کے اہلکاروں نے العربیہ کو بتایا کہ شامی فوج سرحد کے ساتھ پھیل چکی ہے اور مہاجرین کے قافلوں کو ایک ہی آن میں ختم کرنے کے لئے بسا اوقات شامی فضائیہ کو ان قافلوں پر بمباری کے لئے استعمال کرتی ہے.
شام، اردن سرحد ۔ ریما مکتبی
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید