آفیشلز نے ان کی تعداد تو درست بتائی ہے لیکن تاحال ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
ڈان ڈاٹ کام کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ ایک علاقے میں 18 لاشیں موجود ہیں جن میں چار خاصہ دار بھی شامل ہیں جنہیں عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سیکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹی کے چند اراکین بھی شامل ہیں۔
‘ یوں لگتا ہے کہ عسکریت پسند انہیں فائرنگ سے قتل کرنے کے بعد لاشوں کو یہی چھوڑ گئے،’ انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا۔
مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔
جب سیکیورٹی اور انتظامی آفیشلز سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ انہوں نے بھی لاشوں کے بارے میں سنا ہے لیکن ان کے پاس مزید تفصیلات نہیں ۔
ڈان ڈاٹ کام
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام