آفیشلز نے ان کی تعداد تو درست بتائی ہے لیکن تاحال ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
ڈان ڈاٹ کام کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ ایک علاقے میں 18 لاشیں موجود ہیں جن میں چار خاصہ دار بھی شامل ہیں جنہیں عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سیکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹی کے چند اراکین بھی شامل ہیں۔
‘ یوں لگتا ہے کہ عسکریت پسند انہیں فائرنگ سے قتل کرنے کے بعد لاشوں کو یہی چھوڑ گئے،’ انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا۔
مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔
جب سیکیورٹی اور انتظامی آفیشلز سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ انہوں نے بھی لاشوں کے بارے میں سنا ہے لیکن ان کے پاس مزید تفصیلات نہیں ۔
ڈان ڈاٹ کام
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار