انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے قریباً پچاس کلومیٹر جنوب میں واقع علاقے رزمک میں ایک مرکزی شاہراہ پر سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑایا گیا ہے۔فوجی ذرائع نے بم دھماکے میں سترہ اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔بائیس زخمیوں کو صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) میں منتقل کردیا گیا ہے۔
پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں پر یہ ریموٹ کنٹرول بم حملہ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے اس بیان کے صرف ایک روز بعد کیا گیا ہے جس میں انھوں نے شمالی وزیرستان میں اپنے جنگجوؤں کو سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کرنے کا کہا تھا اور ان پر زوردیا تھا کہ وہ افغانستان میں غیرملکی فوجوں کے خلاف کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔اس بم حملے کے وقت شمالی وزیرستان میں کرفیو نافذ تھا اور واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔
درایں اثناء فاٹا کے ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں امن لشکر کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ میں دو جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ واقعہ میں امن لشکر کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا ہے۔پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ خیبر ایجنسی کے علاقے اکاخیل میں پیش آیا ہے۔خیبر ایجنسی کے ایک اور علاقے لنڈی کوتل کی زخاخیل مارکیٹ میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
خیبر ایجنسی ہی میں ایک گاؤں جمعہ خان کلے کے نزدیک واقع علاقے جھانسی میں شرپسندوں نے طالبات کے ایک سرکاری سکول کو نذرآتش کردیا اور اس کا فرنیچر اور دوسرا سامان چوری کر کے لے گئے۔
اسلام آباد
العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید