Categories: مشرق وسطی

شاہ عبداللہ کا تاریخی فرمان، 30 خواتین شوریٰ کونسل کی ارکان مقرر

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جمعہ کو ایک تاریخی حکم نامہ جاری کیا ہے۔اس کے تحت خواتین کو بھی شاہ کی شوریٰ کونسل کا رکن بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

شاہ عبداللہ کی جانب سے جاری کردہ شاہی فرمان کے تحت ایک سو پچاس ارکان پر مشتمل شوریٰ کونسل کے دستور میں دو دفعات میں ترمیم کی گئی ہے۔ دفعہ تین میں پہلی ترمیم کے تحت شوریٰ کونسل میں خواتین کے لیے بیس فی صد کوٹا مختص کیا گیا ہے اور اس حکم نامے کے فوری بعد شاہ عبداللہ نے تیس خواتین کو مشاورتی اسمبلی کا رکن مقرر کر دیا ہے۔

شاہی فرمان کے تحت شوریٰ کونسل کے دستور کی دفعہ بائیس میں دوسری ترمیم کی گئی ہے اور اس میں بعض ذیلی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے یا پھر پہلے سےموجود شقوں میں ترمیم کی گئی ہے۔ شق اول کے تحت، شوریٰ کونسل میں شامل ماہرین پر مشتمل ہر کمیٹی کم سے کم پانچ ارکان پر مشتمل ہو گی۔ کونسل کمیٹی کے ارکان کا ان کا تخصص کے مطابق انتخاب کرے گی۔دوسری شق میں ترمیم کے تحت کونسل کسی خاص موضوع کے جائزے کے لیے خاص کمیٹیاں مقرر کر سکے گی۔

تیسری، یہ کہ خواتین کو شوریٰ کونسل کی مکمل رکنیت کا حق حاصل ہوگا اور وہ اپنے فرائض اور ذمے داریوں کو پورا کرنے کی پابند ہوں گی۔چوتھی، یہ کہ شوریٰ کونسل کی خواتین ارکان اسلامی شریعت کے اصولوں کی پاسداری کریں گی۔ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوں گی اور وہ مناسب حجاب (نقاب) اوڑھیں گی۔

شاہی فرمان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شوریٰ ایوان میں آنے اور جانے کے لیے خواتین ارکان کا مخصوص الگ راستہ ہو گا۔ ان کے لیے ایوان میں نشستیں بھی مردوں سے الگ مخصوص ہوں گی تاکہ وہ اپنے امور کو آزادی سے انجام دے سکیں۔اس کے علاوہ انھیں عملے سمیت مخصوص دفاتر مہیا کیے جائیں گے اور نمازیں ادا کرنے کے لیے الگ جگہ ہو گی۔

واضح رہے کہ شوریٰ کونسل (مشاورتی اسمبلی) کے ارکان کو سعودی شاہ مقرر کرتے ہیں۔یہ کونسل سعودی عرب کے مشاورتی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے اور یہ ضروریات اور حالات کے تقاضوں کے مطابق قوانین کے مسودے تیار کرکے شاہ عبداللہ کو بھیجتی ہے۔ اس کے بعد شاہ ان قوانین کی منظوری دیتے ہیں یا ان کا ملک میں نفاذ کرسکتے ہیں۔

سعودی عرب کو ایک قدامت پسند معاشرہ سمجھا جاتا ہے اور وہاں خواتین پر مختلف معاشرتی قدغنیں عاید ہیں۔ ان کو خود گاڑیاں (کاریں) چلانے کی اجازت نہیں ہے حالانکہ ملک میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں جس کے تحت خواتین کے کاریں چلانے پر پابندی عاید کی جاسکتی ہو۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے برسراقتدار آنے کے بعد سے سعودی معاشرے کو جدید معاشی وسماجی رجحانات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بعض اصلاحات نافذ کی ہے۔ شاہ عبداللہ نے پہلی مرتبہ اپنی کابینہ میں خواتین وزراء کو شامل کیا تھا اور اب انھیں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شوریٰ کونسل کی بھی رکنیت دے دی گئی ہے۔

شوریٰ کونسل کی نئی خواتین ارکان
ڈاکٹر إلہام بنت محجوب بن أحمد حسنين.
ڈاکٹر أمل بنت سلامة بن سليمان الشامان.
ڈاکٹر ثريا بنت أحمد بن عبيد بن محمد عبيد.
ڈاکٹر ثريا بنت إبراہيم بن حسين العريض.
ڈاکٹر الجوہرة بنت إبراہيم بن محمد بوبشيت.
ڈاکٹر حمدة بنت خلف بن مقبل العنزی.
ڈاکٹر حنان بنت عبدالرحيم بن مطلق الأحمدی.
ڈاکٹر حياة بنت سليمان بن حسن سندی.
ڈاکٹر خولة بنت سامی بن سليم الكريع.
ڈاکٹر دلال بنت مخلد بن جہزالحربی.
ڈاکٹر زينب بنت مثنىٰ بن عبدہ أبوطالب.
شہزادی سارة بنت فيصل بن عبدالعزيز آل سعود.
ڈاکٹر سلوىٰ بنت عبدالله بن فہد الهزاع.
ڈاکٹر منىٰ بنت محمد بن صالح الدوسری.
شہزادی موضی بنت خالد بن عبدالعزيز آل سعود.
ڈاکٹر موضی بنت محمد بن عبدالعزيز الدغيثر.
ڈاکٹر نہاد بنت محمد سعيد بن أحمد الجشی.
ڈاکٹر نورة بنت عبدالعزيز بن عبدالرحمن المبارک.
ڈاکٹر نورة بنت عبدالله بن إبراہيم الأصقة.
ڈاکٹر نورة بنت عبدالله بن عبدالرحمٰن العدوان.
محرتمہ ہدىٰ بنت عبدالرحمن بن صالح الحليسی.
ڈاکٹر ہياء بنت عبدالعزيز بن ناصر المنيع.
ڈاکٹر وفاء بنت محمود بن عبدالله طيبة.
ڈاکٹر فردوس بنت سعود بن محمد الصالح.
ڈاکٹر لبنىٰ بنت عبدالرحمٰن بن محمد الطيب الأنصاری.
ڈاکٹر لطيفة بنت عثمان بن إبراہيم الشعلان.
ڈاکٹر مستورة بنت عبيد بن لافی الحسينی الشمری.
ڈاکٹر منىٰ بنت عبدالله بن سعيد آل مشيط.
ڈاکٹر فاطمة بنت محمد بن محسن آل سعيد القرنی.
ڈاکٹر فدوى بنت سلامة بن عودة أبو مريفة.

ریاض
العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago