پاکستان کےنجی نیوز چینل جیو نیوز کےپروگرا”آپس کی بات”میں میزبان سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے نے کہا کہ طاہرالقادری کوعوام کی حمایت نہیں بلکہ ایک خاص گروہ کی حمایت حاصل ہے۔
نجم سیٹھی کا کہناتھا کہ طاہرالقادری ملک میں تبدیلی چاہتےہیں توہ الیکشن میں حصہ لے کرپارلیمنٹ کے ذریعے انقلاب لائیں،لوگوں کو جمع کرکے جلسہ کرنے سے کوئی عوامی نمائندہ نہیں بن جاتا۔
معروف تجزیہ نگارنےکہا کہ طاہرالقادی اس سے قبل2002کے انخبات میں بھی حصہ لے چکے ہیں جس میں انہیں صرف1ہی سیٹ ملی تاہم اس دفعہ ایک سیٹ ملنے کےبھی امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔
یاد رہے کہ طاہرالقادری کے 23دسمبر کو ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ”جلسے اورانتخابی عمل میں اصلاحات نہ ہونے کی صورت میں14جنوری کو لانگ مارچ کے اعلان کےبعد سیاسی حلقے تذبذب کاشکارہیں جب کہ پاکستانی سوشل میڈیا سمیت عوامی حلقوں کی جانب سے بھی جمہوری نظام اور انتخابی عمل کی مخالفت کےباعث انہیں اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ قراردیا جارہا ہے۔
علاوہ ازیں سنی مسلک سے تعلق رکھنےوالے مختلف علماءکرام نےبھی طاہرالقادری کو متضاد بیانات دینےپر گمراہ قراردیتے ہوئے ان پر یہودیوں کا ایجنٹ ہونے، سازشی اور مخصوص لابی کا ایجنڈا مسلط کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
خبررساں ادارہ
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…