Categories: مشرق وسطی

شام:اسدی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 22 لبنانی نوجوان ہلاک

شام کے سرحدی شہر تلکلخ میں لبنان کے شمالی شہر طرابلس سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی سمیت بائیس سنی نوجوان اسدی فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔
لبنان کے سکیورٹی ذرائع اور ایک عالم دین نے ان کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ایک سکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ”ایک فلسطینی اور اکیس لبنانی نوجوان جمعہ کی صبح لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع صوبہ حمص کے علاقے میں باغیوں کے ساتھ مل کر شامی فورسز کے خلاف لڑنے کے لیے گئے تھے اور یہ وہاں گھیرے میں آگئے تھے”۔

طرابلس کے ایک عالم دین نے بتایا ہے کہ ”شہر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان جمعہ کی صبح شام میں لڑائی کے لیے گئے تھے۔ان پر تلکلخ میں شامی فوج نے اچانک حملہ کردیا اور وہ مارے گئے ہیں”۔

اس اسلامی رہ نما نے اس واقعہ کی تھوڑی سی مختلف تفصیل بھی بیان کی ہے اور شام سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”ان لبنانی نوجوانوں کو کسی لڑائی میں نہیں مارا گیا بلکہ انھیں پکڑنے کے بعد قطار میں کھڑا کرکے گولیوں سے اڑا دیا گیا”۔

دوسری جانب لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اپنے طور پر اطلاع دی ہے کہ ”تیس باغیوں پر مشتمل ایک گروپ کو تلکلخ کے نزدیک واقع تل سیرین کے علاقے میں شامی فوجیوں نے ایک حملے کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔ان تمام افراد کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کو قیدی بنالیا گیا تھا یا ہلاک کردیا گیا ہے”۔

طرابلس کے سنی آبادی والے علاقے باب التبانہ سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی جنگجو نے اطلاع دی ہے کہ ان کے علاقے کے دوسگے بھائی بھی شامی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں اور وہ دونوں ایک عالم دین کے بیٹے تھے۔

لبنان کے ساحلی شہر طرابلس کی سنی اکثریتی آبادی شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کی حمایت کررہی ہے جبکہ لبنان ہی سے تعلق رکھنے والی شیعہ ملیشیا حزب اللہ شامی صدر کی حامی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق اس کے سیکڑوں جنگجو شامی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ وہاں لبنان کے اہل سنت سے تعلق رکھنے والے بائیس نوجوانوں کی اس طرح شامی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔شامی حکومت ماضی میں متعدد مواقع پرغیر ملکی جنگجوؤں پر ملک میں خونریزی کو ہوا دینے اور باغیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کا الزام عاید کرچکی ہے جبکہ مغربی حکومتیں بھی شام میں غیرملکی جہادیوں کی موجودگی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔اسی وجہ سے مغربی ممالک اب تک شامی باغیوں کی کھل کر حمایت سے گریزاں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

18 hours ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

1 week ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

2 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

2 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

3 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

4 weeks ago