Categories: مشرق وسطی

مصر آزادی اور جمہوریت کی راہ پر گامزن ہے: صدر مرسی

مصری صدر محمد مرسی کا کہنا ہے کہ ”مصر آزادی اور جمہوریت” کی راہ پر گامزن ہے۔ میں ملک میں سیاسی ،معاشی اور سماجی استحکام کے لیے کام کر رہا ہوں”۔

وہ جمعہ کو قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر اخوان المسلمون کے کارکنان اور اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ”میں نے ہمیشہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا اور عوام کی منشا کو پہچانا ہے اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کروں گا”۔

قبل ازیں مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘مینا’ نے ان کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ”کوئی بھی ہماری آگے کی طرف پیش قدمی کو روک نہیں سکتا۔ میں اللہ اور قوم کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں اور میں نے ہر کسی سے مشاورت کے بعد فیصلے کیے ہیں”۔

انھوں نے صدارتی محل کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انھوں نے سابق صدر حسنی مبارک کے حامیوں پر ملک میں افراتفری پھیلانے کا الزام عاید کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”کسی بھی قیمت پر قانون کا نفاذ کیا جائے گا اور میں ان لوگوں کے خلاف ثابت قدم رہوں گا جو مصر کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کی جمہوری جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا چاہتے ہیں”۔

صدر مرسی نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ”میں نے جو بھی اقدامات اور فیصلے کیے ہیں، وہ ملک کے مفاد میں کیے ہیں اور ان کا کسی بھی طرح یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنے آئینی اختیارات میں اضافہ کرنا چاہ رہا ہوں”۔

”میں جب بھی ملک اور انقلاب کو خطرے میں دیکھتا ہوں تو صورت حال میں مداخلت کرنے اور قانون کی عمل داری کا پابند ہوں اور ان تمام لوگوں کا احتساب کروں گا جو ملک کی جمہوریت کی جانب پیش قدمی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں”۔ ان کا کہنا تھا۔

قاہرہ اور دوسرے شہروں میں صدر مرسی کےہزاروں حامیوں اور مخالفین نے نماز جمعہ کے بعد الگ الگ ریلیاں نکالی ہیں۔ ان کے مخالفین نے قاہرہ کے مشہور تحریر چوک میں ان کے جاری کردہ صدارتی فرامین اور حالیہ اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انھوں نے صدر کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

صدر مرسی کو ان کے جمعرات کو جاری کردہ اعلامیے کے ذریعے مطلق العنان اختیارات حاصل ہو گئے ہیں اور اس آئینی اعلامیے کے تحت تجزیہ کاروں کے بہ قول وہ عدلیہ کے مد مقابل آ گئے ہیں جبکہ عدلیہ نے ان کے اقدامات کو اپنی آزادی کے منافی قرار دیا ہے۔

ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ تمام اختیارات کو صدر کے عہدے میں سمیٹ کر سبکدوش صدر حسنی مبارک سے بھی بڑے آمر اور مطلق العنان حکمران بن گئے ہیں اور آیندہ سال فروری میں ملک کے نئے دستور کی منظوری تک وہ ان اختیارات کو بروئے لا سکیں گے۔

قاہرہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

5 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago