سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ ڈاکٹر نزار بن عبید مدنی نے قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی پر خاموش تماشائی رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ جارحیت کے مرتکب صہیونیوں کو اپنے جرائم کی سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے غیر مؤثر اقدامات نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف جبر و تشدد کی پالیسی برقرار رکھنے کا جواز فراہم کیا ہے۔
“تازہ حملوں سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ صہیونی ریاست کے ہاں قیام کے لیے عالمی اقدامات، عرب لیگ اور سلامتی کونسل قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں۔” سعودی وزیر نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے اور ان کی تمام تر ذمہ داری صہیونی حکومت پر عائد ہو گی۔
ڈاکٹر مدنی نے فلسطینیوں کے آزاد وطن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں امن بات چیت نتیجہ خیز ہو سکتی اور نہ ہی جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے بھی اسرائیلی جارحیت بند کرانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ غزہ پر گزشتہ پانچ دنوں سے جاری حملوں میں اب تک ساٹھ شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی کے لیے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس کل قاہرہ میں شروع ہوا تھا، جو مذمتی قراردادوں سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید