مرحوم مولانا عبدالواحد خاش کے مضافات اسماعیل آباد میں واقع ’دارالہدی‘ دینی مدرسے کے مہتمم اور جامع مسجد کے امام وخطیب تھے۔ آپ کا شمار خطے کے موثر اور مخلص علماء میں ہوتاتھا۔
’سنی آن لائن‘ کی رپوٹ کے مطابق مولانا عبدالواحد گزشتہ سات سالوں سے ایک لاعلاج بیماری کے شکار ہوچکے تھے؛ چند دن قبل ایک ہلکے ہارٹ اٹیک نے انہیں ہسپتال روانہ کردیا جہاں جمعرات کی شام کو اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔
مرحوم مولانا مرادزہی معروف دینی ادارہ ’دارالہدی‘ کے مہتمم اور ٹاؤن کے خطیب وامام تھے۔ آپ کی پیدائش 1945ء میں ہوئی اور آپ 67 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
بلوچستان کے ممتازسکالر نے اعلی دینی تعلیم پاکستان میں وقت کے مایہ ناز مدارس میں حاصل کی۔ ’’دارالہدی‘‘ سندھ میں تعلیم کے بعد آپ نے ’’بدرالعلوم حمادیہ‘‘ میں داخلہ لیا جو رحیم یارخان میں واقع ہے۔ مولانا مرادزہی نے 1970ء میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس وطن چلے گئے جہاں اگلے سال آپ نے اپنے بڑے بھائی مرحوم مولانا عبدالرحیم مرادزہی کے قائم کردہ دینی مدرسے میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔
آپ انتہائی نیک سیرت، متواضع اور عابد عالم دین تھے اور شہرت سے گریزاں تھے۔ آپ نے گزشتہ دو عشروں کے دوران مدرسے کی ظاہری و معنوی ترقی کیلیے سرتوڑ کوششیں کیں جو بارآور بھی ثابت ہوئیں۔ دس ہزار سے زائد شہری اور علماء وطلبا نے جمعہ کو مولانا عبدالواحدکی نمازجنازہ میں شرکت کیلیے اسماعیل آباد پہنچے تھے۔ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اور شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور بھی نمازجنازے میں شریک تھے جہاں مولانا حسین پور نے مرحوم کی نماز جنازہ پڑھائی۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے مرحوم مولانا عبدالواحد کی وفات پر ان کے اہل خانہ، متعلقین اور عام مسلمانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں نصیحت کی علماء اور دینی مدارس کو پہلے سے زیادہ حمایت کریں۔
’سنی آن لائن‘ ٹیم بھی مرحوم مولاناعبدالواحدکے اعزہ واقارب اور اہل علم سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالی مرحوم کو اعلی علیین میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کی تمام لغزشوں اور خطاؤوں سے درگذر فرمائے۔ آمین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید