مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیاگیا جب حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوا تھا اور “بسیج” ملیشیا کے اہلکار مبینہ بمبار کے تعاقب کررہے تھے۔
صوبائی نائب گورنر “رجب علی شیخ زادہ” کے مطابق دھماکے سے ایک پولیس اہلکار سمیت چار رہگیر زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلیے فورا اسپتال منتقل کیاگیا۔
واقعے کی ذمہ داری “حرکت انصار” نامی گروپ نے اپنی ویب سائیٹ پر بیان شائع کرتے ہوئے قبول کیاہے۔ بیان کے مطابق “کاربم دھماکے” میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کا تعلق سکیورٹی اداروں سے تھا۔
علمائے اہل سنت زاہدان سمیت متعدد شیعہ و سنی شخصیات اور تنظیموں نے مذکورہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیاہے۔
سنی آن لائن+خبررساں ادارے
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…