مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیاگیا جب حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوا تھا اور “بسیج” ملیشیا کے اہلکار مبینہ بمبار کے تعاقب کررہے تھے۔
صوبائی نائب گورنر “رجب علی شیخ زادہ” کے مطابق دھماکے سے ایک پولیس اہلکار سمیت چار رہگیر زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلیے فورا اسپتال منتقل کیاگیا۔
واقعے کی ذمہ داری “حرکت انصار” نامی گروپ نے اپنی ویب سائیٹ پر بیان شائع کرتے ہوئے قبول کیاہے۔ بیان کے مطابق “کاربم دھماکے” میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کا تعلق سکیورٹی اداروں سے تھا۔
علمائے اہل سنت زاہدان سمیت متعدد شیعہ و سنی شخصیات اور تنظیموں نے مذکورہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیاہے۔
سنی آن لائن+خبررساں ادارے
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان