سرکاری ٹی وی کے مطابق زور دار دھماکے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور کچھ دیر تک فائرنگ بھی ہوتی رہی۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ فائرنگ مقامی قبائل یا سیکورٹی فورسز کی طرف سے کی گئی۔ سات لاشوں اور دو بچوں سمیت تئیس زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ پانچ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
درہ آدم خیل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ایف خان آفریدی نے میڈیا پر ہسپتال میں آٹھ لاشیں لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ دھماکے کے بعد حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار کے مطابق حملے میں امن لشکر کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…