سرکاری ٹی وی کے مطابق زور دار دھماکے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور کچھ دیر تک فائرنگ بھی ہوتی رہی۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ فائرنگ مقامی قبائل یا سیکورٹی فورسز کی طرف سے کی گئی۔ سات لاشوں اور دو بچوں سمیت تئیس زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ پانچ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
درہ آدم خیل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ایف خان آفریدی نے میڈیا پر ہسپتال میں آٹھ لاشیں لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ دھماکے کے بعد حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار کے مطابق حملے میں امن لشکر کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان