اس کے ساتھ ہی شام کی خانہ جنگی میں اب تک مرنے والے افرادکی تعداد 32 ہزارسے بڑھ گئی ہے۔ایک مانیٹرنگ گروپ کے مطابق اب تک مارے جانے والے افرادمیں 22,980 شہری،7,884 فوجی اور 1,215باغی فوجی شامل ہیں۔ادھرترک سرحدپربھی گولاباری کا تبادلہ جاری رہا۔پیرکوشام سے کچھ گولے لبنانی علاقے میں بھی گرے جس کے بعد اس علاقے سے شہریوں نے نقل مکانی شروع کردی۔
لبنانی فوج نے شامی گولاباری کے جواب میں فائرنگ کی ۔شام کے وزیراطلاعات عمران الزوبی نے ترک وزیرخارجہ کی اس تجویزکومستردکردیاہے کہ شام کا بحران حل کرنے کیلیے اقتدارنائب صدرفاروق الشرع کومنتقل کردیاجائے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے شام کی جنگ کے سرحدوں سے باہرترکی اورلبنان تک پھیلنے پرتشویش کا اظہارکیاہے اورکہاہے کہ شام میں باہرسے ہتھیاروں کی ترسیل روکی جائے۔ دریں اثناء شامی باغیوں نے گرفتاردرجنوں ایرانی شہریوں کوہلاک کرنے کی ڈیڈلائن گزرنے پران کے قتل کوعارضی طورپرملتوی کرنے کا اعلان کیاہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان