استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ترکی کسی سے جنگ کرنا نہیں چاہتا اور نہ ہی جنگ سے گھبراتا ہے،آج جہاں ترکی موجود ہے وہ مقام اس نے بین البراعظمی جنگوں کے نتیجے میں حاصل کیا۔
ترک پارلیمنٹ نے گزشتہ روز شام کی سرحدی علاقوں پر حملوں کی منظوری دے دی تھی۔
شام کی جانب سے جمعرات کو ترکی سے معافی بھی مانگ لی گئی جس کے بعد صورتحال قدرے بہتر دکھائی دی۔
بدھ کو شام کی سرحد سے بلااشتعال ترک سرحدی علاقے میں گولا باری پر امریکا سمیت مغربی ممالک نے شدید مذمت کی تھی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان