ہزاروں نمازیوں سے جمعے کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے مزیدکہا: سخی دوست جان ہر دلعزیز آدمی تھے جو امن و صلح کے داعی تھے۔ آپؒ قبائلی و ذاتی تنازعات کے تصفیہ سے ہمیشہ خطے میں پائیدار امن لانے کی کوشش کرتے۔
انہوں نے مزیدکہا: آپ کو ’سخی‘ اس وجہ سے کہاجاتا تھا کہ مہمانوں کا ایک ہجوم ہمیشہ ان کے گھر میں تھا۔ لوگ پاکستان و ایران اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے ان کے گھر پہنچتے اور آپ ان کی خدمت کرکے ان کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ مہمان نوازی میں مشہور تھے۔ اللہ تعالی ان کی مکمل مغفرت کرکے ان کے پس ماندگان کو اجر و صبر نصیب فرمائے۔ ہمیں ان کیلیے دعا کرنی چاہیے، یہ ان کا حق ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام