ہزاروں نمازیوں سے جمعے کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے مزیدکہا: سخی دوست جان ہر دلعزیز آدمی تھے جو امن و صلح کے داعی تھے۔ آپؒ قبائلی و ذاتی تنازعات کے تصفیہ سے ہمیشہ خطے میں پائیدار امن لانے کی کوشش کرتے۔
انہوں نے مزیدکہا: آپ کو ’سخی‘ اس وجہ سے کہاجاتا تھا کہ مہمانوں کا ایک ہجوم ہمیشہ ان کے گھر میں تھا۔ لوگ پاکستان و ایران اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے ان کے گھر پہنچتے اور آپ ان کی خدمت کرکے ان کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ مہمان نوازی میں مشہور تھے۔ اللہ تعالی ان کی مکمل مغفرت کرکے ان کے پس ماندگان کو اجر و صبر نصیب فرمائے۔ ہمیں ان کیلیے دعا کرنی چاہیے، یہ ان کا حق ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار