Categories: مشرق وسطی

شام میں مزید 83 شہری شہید

دمشق(ثناء نیوز) شام میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت 83 افراد ہلاک ہو گئے ۔ تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز حکومتی فوجیوں کے ہاتھوں شام کے مختلف علاقوں میں 83 افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں درعا کے علاقے میں ہلاک ہونے والے 20 اور حمص میں مارے جانے والے29 افراد بھی شامل ہیں۔ ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔
دریں اثنا اپوزیشن شامی قومی کونسل نے اتوار کو کہا ہے کہ اس نے استنبول میں ہونے والے ایک اجلاس میں کرد رہنما عبدالباسط سیدا کو نیا سربراہ چن لیا ہے۔ایک مختصر بیان میں کہا گیا ’’عبدالباسط سیدا کو ڈاکٹر برہان غالیون کی جگہ شامی قومی کونسل کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے حمس اور درہ سمیت دیگر علاقوں میں فورسز کی کارروائی میں 83 افراد ہلاک ہو گئے ۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شام کے صوبہ درہ میں 20 افراد ہلاک ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ حمس میں سیکورٹی فورسز کی بمباری میں 29 افراد ہلاک ہو گئے۔
مارچ 2011 ء سے اب تک شام میں 13500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے جبکہ اتوار کو جنوبی صوبہ دارا میں باغیوں اور شامی فورسز کے درمیان جھڑپ میں تین فوجی ہلاک ہوئے۔ 5 جون سے جاری ترک بارڈر پر لڑائی میں اب تک 60 شامی فوجی اور 46 شہری اور باغ ہلاک ہوچکے ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ الحیفہ میں جاری جھڑپوں میں فوج کو شکست کا سامنا ہے اور یہ لڑائی پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق شام میں جاری قتل و غارت میں اب تک 14,100 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
شام میں خونریزی کے خاتمے کے لیے روس نے ایک ایسی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کی ہے، جس میں ایران بھی شامل ہو۔
دوسری جانب اپوزیشن شامی قومی کونسل نے اتوار کو استنبول میں ہونے والے ایک اجلاس میں کرد رہنما عبدالباسط سیدا کوڈاکٹر برہان غالیون کی جگہ نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ انہوں نے پیرس میں مقیم ماہرتعلیم غالیون سے عہدے حاصل کرلیا ہے، جو اس جلاوطن بلاک کے پہلے سربراہ تھے ۔ انہوں نے گزشتہ ماہ پھوٹ پڑنے کے بعد یہ عہدہ چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس سے گروپ کی ساکھ متاثر ہورہی تھی۔
سیدا جو دوعشروں سے سویڈن میں جلا وطن ہیں‘ انہیں متفقہ امیدوار بنایا گیا اور یہ سمجھا گیا کہ وہ ایس ایم سی کے متحارب گروپوں کے درمیان مصالحت کی صلاحیت رکھتے ہیں اور شام کے لسانی اور دیگر گروپوں میں اثرو رسوخ بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن کی شامی قومی کونسل کے نئے سربراہ عبدالباسط سیدا نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت’’آخری سانسیں‘‘ لے رہی ہے اور اس کا بہت سے شہروں پر کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔ مسلسل قتل عام اور بمباری سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جدوجہد کررہی ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago