’’سنی نیوز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی کردستان کے شرعی قاضی ومفتی کاک حسن امینی کو حساس ادارے کی جانب سے منگل انتیس مئی کو طلب کیاگیا جہاں ان کے بعض مواقف اور بیانات پر دھمکی آمیز تنقید کی گئی جن کا جواب شیخ امینی نے مستند انداز میں دیا۔
رپورٹ کے مطابق شیخ امینی نے ایرانی اہل سنت کے حوالے سے بعض غیرملکی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی ہے اور ان کے بیانات باہرملک اہل سنت کے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز ’نور‘ اور ’کلمہ‘ میں نشر ہوچکے ہیں؛ اسی وجہ سے خفیہ ادارے کے حکام نے سخت غصے کا اظہارکیا ہے۔ حکام نے انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا کہ وہ کیوں حکومتی امتیازی سلوک کا شکوہ کرتے ہیں اور ایران کی سنی برادری اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
شائع شدہ رپورٹ میں آتاہے: وزارت انٹیلیجنس کے حکام نے شیخ امینی پر سخت تنقید کی ہے کہ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں نامزد امیدواروں کو ناہل قرار دینے اور سنی تعلیم یافتہ افراد کو ملازمت نہ دینے پر کیوں احتجاج کیاجاتاہے اور حکومت پر تنقید کی جاتی ہے۔ اسی طرح کاک حسن امینی کی اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا کہ صحت اور تعلیم مفت کیوں نہیں اور سرکاری تعلیمی اور صحی ادارے عوام سے کیوں بھاری فیسیں لیتے ہیں۔
یہ پوچھ گچھ گھنٹوں تک جاری رہی اور کردستان کی ’مکتب قرآن تحریک‘ کے سرپرست شیخ امینی نے مستدل انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس واقعے کے دو دن بعد سپیشل کورٹ فار اسکالرز کی جانب سے ایک سمن لیٹر موصول ہوا، انہیں منگل انیس جون کو ہمدان کی عدالت میں پیشی کا حکم دیاگیا ہے۔ اس سے پہلے بھی انہیں کئی دفعہ گرفتار اور ٹرائل کیا جاچکاہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار