حزبِ اختلاف کے مطابق حکومتی فوجوں کی ہولہ میں گولہ باری اور قصبے پر حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔
ان اعداد و شمار کے درست ہونے کی صورت میں یہ حملہ اپریل میں رائج کی گئی جنگ بندی کے بعد شام میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کے چند شہروں کے بڑے حصے پر صدر بشارالاسد کے مخالفین کا قبصہ ہے۔
بان کی مون نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط میں کہا ہے کہ شام کی صورتِ حال بہت سنجیدہ ہے اور دوسرے ممالک کو کسی بھی فریق کو ہتھیار مہیا نہیں کرنے چاہیئیں۔
اس سے پہلے شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے ترجمان نے کہا تھا کہ کوفی عنان دمشق کا دورہ کریں گے۔
اگرچہ کوفی عنان کے ترجمان نے اس دورے کی کوئی تاریخ نہیں بتائی تاہم جنیوا میں سفارت کاروں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اقوامِ محتدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان اگلے ہفتے شام کا دورہ کریں گے۔
شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ دیگر شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہروں پر کیے گئے تشدد میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہوئے۔
بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کے مطابق حزب اختلاف کے کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں بچوں کی مسخ شدہ لاشیں دکھائی گئی ہیں۔
حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی سیکورٹی فورسز نے متعدد خاندانوں کو ایک قصبے پر حملے کے دوران ہلاک کیا۔
شام میں بین الاقوامی میڈیا پر عائد پابندی کے باعت ان اطلاعات کی تصدیق بہت مشکل ہے۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم سے کم دس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام