سماعت کے دوران چيف جسٹس نے پرنسپل سيکريٹري ، سيکريٹري دفاع ،داخلہ کے نہ آنے پر اظہاربرہمي کرتے ہوئے ريمارکس ديئے کہ ايجنسيوں پر سيريس الزامات ہيں اوروفاق دلچسپي نہيں لے رہا. انہوں نے اپنے ريمارکس ميں کہا کہ ايف سي کے خلاف 80فيصد الزامات ہيں.
چيف جسٹس نے ڈپٹي اٹارني جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 4 ماہ سے آرہے ہيں ليکن آپ بے بس ہيں، زمين سے لائيں، آسمان سے لائيں، لاپتاافراد بازياب کريں. اس موقع پر ڈپٹي اٹارني جنرل ملک سکندر نے اپنے مستعفي ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ميں گردش ايام کي وجہ سے ڈپٹي اٹارني جنرل بنا.
چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ يہ آپ کے گردش ايام نہيں، يہ لاپتا افراد کے لواحقين کي گردش ايام ہيں جو باہر بيٹھے ہيں، آپ تو اپنے بچوں سے ملکر آرہے ہيں جبکہ باہر لوگ چيخ رہے ہيں. اس پر ڈپٹي اٹارني جنرل ملک سکندر کا کہنا تھا کہ اب ميں عدالت ميں 5منٹ بعدوکيل کي حيثيت سے پيش ہونگا.
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام