اقوام متحدہ میں شام سے متعلق قرارداد ہفتے کو منظور کی گئی تھی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تین سو فوجی مبصرین کو ابتدائی طور پر تین ماہ کے عرصے کے لیے وہاں بھیجا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس قرارداد کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا: ’ہم اس مسئلے پر سلامتی کونسل کے اتحاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ قرارداد کچھ تاخیر سے منظور ہوئی ہے مگر ہمیں امید ہے کہ ابھی بہت زیادہ تاخیر نہیں ہوئی۔‘
سلامتی کونسل میں روسی مندوب ویتالی چرکِن نے کہا کہ توسیعی مشن کے متعلق قرارداد ’شام کے مسئلے کے پر امن تصفیے کے عمل کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم ہے۔‘
تاہم امریکا نے انتباہ کیا کہ وہ تین ماہ کے عرصے کے بعد اس مشن کی تجدید کو روک سکتا ہے۔ امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا: ’ہم اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر شامی فورسز کی حمص میں وحشیانہ بمباری اور حلب میں کارروائیوں سے لگتا ہے کہ شامی حکومت فائر بندی کے عمل سے مخلص نہیں۔‘
اُدھر اتوار کو شامی فورسز کے ٹینکوں نے دمشق کے نواحی علاقے دُومہ میں حکومت مخالفین پر گولہ باری اور فائرنگ کی۔
صوبہ دمشق کی انقلابی کونسل نے ایک بیان میں کہا: ’سرکاری فورسز نے ٹینکوں کی مدد سے دومہ پر سخت فائرنگ کرتے ہوئے دھاوا بول دیا۔‘
برطانیہ میں قائم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ دومہ میں سکیورٹی فورسز کی ایک بکتر بند گاڑی کو بم حملہ میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ دمشق کی ایک چوکی پر تین شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ آبزرویٹری کے مطابق صوبہ ادلِب کے ضلع جبل الزاویہ کے ایک گاؤں میں سکیورٹی فورسز نے تین شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے مبصرین کی ایک دو رکنی ٹیم نے حمص شہر میں اپنا مستقل دفتر بنا لیا ہے جہاں وہ صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ ایک مبصر نیراج سنگھ نے اے ایف پی کو بتایا کہ کل ٹیم نے حمص شہر کا دورہ کیا تھا اور مختلف لوگوں سے بات چیت کی تھی۔
دوسری جانب عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ مندوب کوفی عنان نے تمام فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا: ’میں سرکاری فورسز اور مخالفین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال کر خونریزی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کے ساتھ تعاون کریں۔‘
اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ شام میں گزشتہ تیرہ ماہ سے جاری تشدد میں اب تک نو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…