Categories: مشرق وسطی

شام میں مبصرین کی تعیناتی کی منظوری کے باوجود خونریزی

دمشق(ايجنسياں) اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں تین سو غیر مسلح فوجی مبصرین تعینات کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ملک میں مزید خونریزی کی اطلاعات ملی ہیں۔ دمشق کے نواح میں سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالفین پر ٹینکوں سے گولہ باری کی ہے۔
اقوام متحدہ میں شام سے متعلق قرارداد ہفتے کو منظور کی گئی تھی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تین سو فوجی مبصرین کو ابتدائی طور پر تین ماہ کے عرصے کے لیے وہاں بھیجا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس قرارداد کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا: ’ہم اس مسئلے پر سلامتی کونسل کے اتحاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ قرارداد کچھ تاخیر سے منظور ہوئی ہے مگر ہمیں امید ہے کہ ابھی بہت زیادہ تاخیر نہیں ہوئی۔‘
سلامتی کونسل میں روسی مندوب ویتالی چرکِن نے کہا کہ توسیعی مشن کے متعلق قرارداد ’شام کے مسئلے کے پر امن تصفیے کے عمل کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم ہے۔‘
تاہم امریکا نے انتباہ کیا کہ وہ تین ماہ کے عرصے کے بعد اس مشن کی تجدید کو روک سکتا ہے۔ امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا: ’ہم اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر شامی فورسز کی حمص میں وحشیانہ بمباری اور حلب میں کارروائیوں سے لگتا ہے کہ شامی حکومت فائر بندی کے عمل سے مخلص نہیں۔‘
اُدھر اتوار کو شامی فورسز کے ٹینکوں نے دمشق کے نواحی علاقے دُومہ میں حکومت مخالفین پر گولہ باری اور فائرنگ کی۔
صوبہ دمشق کی انقلابی کونسل نے ایک بیان میں کہا: ’سرکاری فورسز نے ٹینکوں کی مدد سے دومہ پر سخت فائرنگ کرتے ہوئے دھاوا بول دیا۔‘
برطانیہ میں قائم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ دومہ میں سکیورٹی فورسز کی ایک بکتر بند گاڑی کو بم حملہ میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ دمشق کی ایک چوکی پر تین شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ آبزرویٹری کے مطابق صوبہ ادلِب کے ضلع جبل الزاویہ کے ایک گاؤں میں سکیورٹی فورسز نے تین شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے مبصرین کی ایک دو رکنی ٹیم نے حمص شہر میں اپنا مستقل دفتر بنا لیا ہے جہاں وہ صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ ایک مبصر نیراج سنگھ نے اے ایف پی کو بتایا کہ کل ٹیم نے حمص شہر کا دورہ کیا تھا اور مختلف لوگوں سے بات چیت کی تھی۔
دوسری جانب عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ مندوب کوفی عنان نے تمام فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا: ’میں سرکاری فورسز اور مخالفین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال کر خونریزی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کے ساتھ تعاون کریں۔‘
اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ شام میں گزشتہ تیرہ ماہ سے جاری تشدد میں اب تک نو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago