ان خیالات کا اظہار انہوں نے حضرو میں اسلام زندہ باد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی پالیسیاں ان کے ذاتی مفادات کے تابع تھیں ملک کو جن پالیسیوں پر جنرل مشرف نے گامزن کیا تھا اس کی منظوری کسی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی مگر آج ہمارے اٹھارہ19ممبران اسمبلی پارلیمنٹ میں امریکی معائدوں کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔
جے یو آئی کے امیر نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی تجاویزو سفارشات 6ماہ کے بعد متفقہ طور پر منظور ہوئیں، وزیراعظم کی آل پارٹیز کانفرنس میں سفارشات کو2بار متفقہ طور پر منظور کیا گیامگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتااور 2001کے امریکہ سے خفیہ معائدات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتااور ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ زبانی ہیں اور پھر حکومت ایک چال کے ذریعے سے نئی شرائط پارلیمنٹ سے منظور کروانا چاہتی ہے مگر ہم اپنے کاندھے پر بندوق رکھ کر ہر گز چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہم نے کہا ماضی کے خفیہ معادات آج سے ہی ختم تصور کر لئے جائیں اور بیرونی ایجنسیوں کے کردار بند کیا جائے یہی وجہ ہے کہ ہمارے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے امریکہ سے نئے معائدات کی شق حذف کر دی گئی اور ہماری تجاویز کو من و عن قبول کر لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ گھریلو خواتین پر تشدد کا بل خوبصورت انداز میں پیش کرکے قوم کو گمراہ اور مغربی تہذیب کا دلدادہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بیٹی سے باپ یہ نہ پوچھ سکے کہ وہ آدھی رات کو گھر کیوں آرہی ہے اور یہی سبب ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور مغربی پیروکار، مغربی تنخواہ خوار این جی اوزانسانی ہمدردی کے نام پر حکومت کی حمایت اور ہماری مخالفت کررہی ہیںتاکہ ہماری تہذیب و اقدار کو تباہ و برباد کیا جا سکے اور یہ گھریلوخواتین پر تشدد کا وہی بل ہے جو2005میں بھارت نے منظور کیا تھا۔
جے یو آئی کے قائد کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام جن لوگوں کو مینڈیٹ دیتے ہیں اس کا ہم احترام کرتے ہیں تو اس کی گالیاں ہمیں دی جاتی ہیں اس لئے عوام سوچ سمجھ کر فیصلہ کریںتاکہ مفاد پرست ٹولہ اقتدار پر مسلط نہ ہو۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام