Categories: مشرق وسطی

شام میں فائر بندی سے ایک روز قبل مزید جھڑپیں

دمشق (ڈوئچے ویلے) شام میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے مجوزہ امن منصوبے پر عمل درآمد سے ایک روز قبل آج پیر کو مختلف علاقوں میں جھڑپوں اور ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔
کوفی عنان کل منگل کو ترکی کی سرحد کے قریب شامی مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ شروع کریں گے۔
اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے جو امن منصوبہ پیش کیا تھا اُس کے تحت منگل سے احتجاج کرنے والے شہروں سے شامی فوج کا انخلاء شروع ہونا ہے اور 48 گھنٹوں میں لڑائی کو مکمل طور پر روکنا ہے۔ تاہم معاہدے پر عمل درآمد مشکوک نظر آنے لگا ہے کیونکہ اتوار کو دمشق حکومت نے یہ شرط عائد کر دی تھی کہ وہ صرف اِس صورت میں معاہدے کی پاسداری کرے گی اگر باغی اس بات کی تحریری ضمانت دیں کہ وہ بھی لڑائی روک دیں گے۔
اس کے جواب میں باغی فوج کے سربراہ کرنل ریاض الاسد نے کہا تھا: ’ہم عنان منصوبے پر کاربند ہیں۔ ہم اپنی ضمانتیں اور وابستگیاں بین الاقوامی برادری کے حوالے تو کریں گے، مگر اِس شامی حکومت کو نہیں۔‘
جنیوا سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کوفی عنان نے شامی حکومت پر معاہدے کی پاسداری کے لیے زور دیا ہے۔ عنان نے کہا: ’میں شامی حکومت کو اس کے وعدوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے زور دیتا ہوں کہ تشدد کی سطح میں موجودہ اضافہ ناقابل قبول ہے۔‘
کوفی عنان کل منگل کو ترکی کی سرحد کے قریب شامی مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کر کے صورت حال کا جائزہ لیں گے۔
ایک پیشرفت میں چینی حکومت نے شامی حکومت اور اپوزیشن گروپوں پر فائر بندی کے لیے زور دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِیو وائیمِن نے بیجنگ میں نیوز بریفنگ کے دوران کہا: ’چین شامی حکومت اور اپوزیشن گروپوں پر زور دیتا ہے کہ وہ فائر بندی کی پاسداری کریں اور وعدے کے مطابق فوج کو نکال لیں، موجودہ کشیدہ صورتحال سے باہر نکلنے اور انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے خصوصی مندوب کوفی عنان کی ثالثی کی کوششوں میں تعاون کریں اور شام میں تنازعے کے سیاسی حل کو فروغ دیں۔‘
دمشق حکومت کے ایک اور حلیف روس نے کہا ہے کہ وہ کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر مشن میں اپنے نمائندے بھجوا سکتا ہے۔ روس کے نائب وزیر خارجہ گنادی گاتلوف نے پیر کو کہا کہ اس مشن کی تفصیلات پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔
اُدھر شام میں جاری تشدد کے واقعات میں مزید ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔ صوبہ حلب میں ترکی کی سرحد کے نزدیک گاؤں سلامہ میں باغی جنگجوؤں نے ایک چوکی کا محاصرہ کر کے سکیورٹی فورسز اور کسٹم کے چھ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ اسی صوبے کے ایک شمالی شہر سکری کے نواح میں ہونے والی جھڑپوں میں دو پولیس اہلکار مارے گئے۔
دارالحکومت دمشق کے مضافات میں فوجیوں کی ایک بس پر حملے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے۔
اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف گزشتہ مارچ سے جاری تحریک کے دوران اب تک نو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago