افغان وزارت داخلہ کے سینئر اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’’ ایک پولیس افسر جو وزارت داخلہ کے انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ کے لیے کام کرتا تھا، اس واردات کے بعد سے غائب ہے۔ حکام سمجھتے ہیں کہ وہی افسر اس قتل کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس پولیس اہلکار کی تلاش کی جا رہی ہے۔‘‘
ہفتے کے روز افغان وزارت داخلہ کے کنٹرول روم میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں دو امریکی فوجی مشیر ہلاک ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ سے قبل وہاں تلخ کلامی ہوئی تھی، جبکہ واقعے کے وقت وہاں افغان اور غیر ملکی سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں افغان ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ فائرنگ کرنے والا غیر ملکی تھا، تاہم بعد میں نیٹو کی طرف سے اس خبر کی تردید کر دی گئی۔
امریکی فوجی مشیروں کے قتل کے بعد مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے مختلف افغان وزارتوں میں تعینات اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ ہفتے کا واقعہ بگرام میں قائم امریکی فوجی اڈے میں قرآن کے نسخے جلائے جانے کے بعد افغانستان بھر میں امریکہ کے خلاف ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے پانچویں روز پیش آیا تھا۔
افغانستان کے ایک مقامی ٹیلی وژن نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 25 سالہ مشتبہ پولیس افسر 2007 میں وزارت داخلہ میں بطور ڈرائیور بھرتی ہوا تھا مگر بعد میں اس کی ترقی ہوتی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس افسر نے غائب ہونے سے پہلے وزارت داخلہ کے رجسٹر میں دستخط بھی کیے
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام